عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

عنوان: ریزہ ریزہ ممتا Reeza Reeza Mamta

"گھر کی دہلیز لانگھتے ہی خوابوں کی تعبیر بدل جاتی ہے، لیکن خون کے چند قطرے جب لفظوں کا روپ دھاریں تو ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔"

مرکزی خیال:

یہ افسانہ عورت کی نفسیات، معاشرتی جبر، گمراہ کن خوابوں کی بھیانک تعبیر اور سب سے بڑھ کر 'ممتا' کے اس آفاقی ضمیر کا احاطہ کرتا ہے جو انسان کو اس کے گناہوں کا احساس دلا کر پاکیزگی کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ دو ایسی عورتوں کی کہانی ہے جو مختلف راستوں سے گزر کر ایک ہی کربِ ذات کا شکار ہوتی ہیں۔


ریحانہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ نسرین کو اچانک کیا ہو گیا ہے۔ جب بھی اس کی پندرہ ماہ کی بیٹی معصومیت سے ہکلا کر اسے 'ماں' پکارتی، نسرین خوش ہونے کے بجائے یوں سہم جاتی جیسے کسی نے اس کی روح پر تازیانہ مار دیا ہو۔ وہ مقام جس کے پیروں تلے جنت کی نوید سنائی گئی تھی، نسرین کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا تھا۔ 'ماں' کا لفظ کانوں میں پڑتے ہی اس کے اوسان خطا ہو جاتے، آنکھوں کے سامنے گھنا اندھیرا چھا جاتا اور پورا جسم اس طرح سُن ہو جاتا گویا زندگی اور مٹی کا رشتہ ٹوٹ چکا ہو۔ وہ خود کو سنبھالنے کی جتنی کوشش کرتی، اتنی ہی گہری دلدل میں دھنستی چلی جاتی۔

چند ہی دنوں میں نسرین کے ہنستے مسکراتے چہرے پر ایک عجیب سی ویرانی اور پراسرار خوف کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ گھر کے کام کاج سے اس کی دلچسپی ختم ہو چکی تھی۔ کل ہی کی بات ہے، ہانڈی چولہے پر چڑھی تھی اور اس نے بے خیالی میں دو بار نمک ڈال دیا تھا۔ وہ گھنٹوں چپ چاپ بیٹھی دیوار پر لگی اس تصویر کو ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی، جسے وہ خود بازار سے خرید کر لائی تھی— ایک ایسی تصویر جس میں ممتا کے اداس مگر گہرے جذبات کی عکاسی کی گئی تھی۔

ریحانہ اور نسرین کے درمیان خون کا کوئی رشتہ نہ تھا، لیکن ان کا تعلق سگی بہنوں سے بھی زیادہ گہرا تھا۔ انہوں نے کبھی ایک دوسرے سے اپنے دل کا کوئی بھید نہیں چھپایا تھا، مگر اب نسرین کے گرد خاموشی کی ایک ایسی اونیچی دیوار کھڑی ہو گئی تھی جسے پھلانگنا ریحانہ کے لیے ناممکن ہو رہا تھا۔

کبھی کبھی ریحانہ کے دل میں وسوسہ ابھرتا کہ کہیں نسرین کے دل میں اس کے لیے نفرت تو پیدا نہیں ہو گئی؟ اب تو وہ اسے 'باجی' کہہ کر بھی نہیں پکارتی تھی۔ کوئی کام کہو تو خاموشی سے، ہاں ہوں کر کے نبٹا دیتی، مگر زبان پر 'باجی' کا لفظ جیسے جم چکا تھا۔ ریحانہ کا دل کڑھتا: 'مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی کہ وہ یوں روٹھ گئی؟ مجھے اس سے صاف صاف پوچھ لینا چاہیے کہ تم کیوں میرا دل جلاتی ہو؟' وہ پختہ ارادہ کر کے اٹھنے ہی والی ہوتی کہ اس کا اندرونی ضمیر اسے ٹوک دیتا: 'تم جس بازار سے وابستہ ہو، کیا وہ قابلِ فخر ہے؟ اگر اس نے غصے یا جذباتی رو میں کوئی ایسا طعنہ دے دیا جو تمہاری روح کو زخمی کر دے، تو کیا تم سہہ پاؤ گی؟' ضمیر کی یہ تلخ حقیقت پسندی اس کے قدم روک دیتی اور وہ اپنی بے بسی پر دل ہی دل میں پگھلتی رہتی۔ وہ سوچتی: 'میں ایسی تو نہ تھی، نہ ہی یہ زندگی میری مرضی تھی... بس حالات کی لہریں یہاں بہا لائیں۔ اب مجھے اس تعفن سے نکلنا ہی ہو گا۔' یہ سوچتے سوچتے ریحانہ کا ذہن ماضی کی دھندلی گلیوں میں بھٹک گیا۔

ریحانہ نے غربت کی تاریک کوکھ سے جنم لیا تھا۔ اس کا باپ چوہدری کا ادنیٰ مزارع تھا، جو دن بھر تپتی دھوپ میں ہڈیاں گلاتا، مگر اتنی قلیل اجرت ملتی کہ دو وقت کی روٹی بھی عذاب بن جاتی۔ مجبوراً ماں اور بچوں کو بھی چوہدری کی حویلی کی چاکری کرنی پڑتی۔ ریحانہ کو یاد ہی نہیں تھا کہ اس نے بچپن میں کبھی گڑیوں سے کھیلا ہو یا ہم جولیوں کے ساتھ قہقہے لگائے ہوں۔ ذرا ہوش سنبھالا تو خود کو حویلی کے برتن مانجتے اور جھاڑو دیتے پایا۔

جب وہ سنِ شعور کو پہنچی تو جوانی کے ابتدائی آثار اس کے وجود پر جھلکنے لگے۔ بڑی بڑی مخملی نیلی آنکھیں، چمکتا ہوا گندمی رنگ، گھنے سیاہ بال اور ایک معصوم، سڈول وجود— وہ واقعی کسی جاپانی گڑیا جیسی دکھتی تھی۔ چوہدری کی ہوس پرست نظریں اس کے ابھرتے ہوئے وجود کا طواف کرنے لگیں۔ وہ اکثر حیلے بہانے سے اس کی ماں کو دور دراز کے کاموں پر بھیج دیتا اور ریحانہ کو تنہائی میں دبوچ کر اس کے کچے وجود کو بھینچنے لگتا۔ ریحانہ کو اس لمس سے گھن آتی تھی، لیکن وہ خوف اور کمسنی کی وجہ سے ماں کو کچھ نہ بتا سکی۔ چوہدری اسے بچا ہوا کھانا اور چند روپے تھما دیتا، اور وہ نادان ان چند سکوں کی چمک میں اپنی توہین کو چھپا لیتی۔ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ چوہدری کی اس شیطانیت کا گہرا مطلب سمجھنے سے قاصر تھی۔

پھر وہ نحس دن آیا جب ریحانہ تیرہ برس کی ہوئی۔ اس کی ماں شدید علالت کے باعث بستر سے لگ گئی اور حویلی کا سارا بوجھ ریحانہ کے اکیلے کندھوں پر آ گیا۔ ایک شام جب وہ صفائی کے لیے چوہدری کے نجی کمرے میں داخل ہوئی، تو ماحول میں سستی شراب کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ چوہدری کی آنکھیں خون کی طرح سرخ تھیں اور وہ صوفے پر نیم دراز ہو کر ریحانہ کو گدھ کی طرح گھور رہا تھا۔ ریحانہ کے پور پور میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ہاتھ سے جھاڑن چھوٹ کر گرنے لگی۔ وہ الٹے قدموں مڑنے لگی تو چوہدری کی گرجدار، لڑکھڑاتی آواز نے اسے وہیں منجمد کر دیا۔

"کہاں جا رہی ہو؟"

"وہ... کپڑے دھونے..." ریحانہ کی زبان نے ساتھ نہ دیا۔

چوہدری نے خمار آلود ہنسی ہنستے ہوئے کہا: "بڑی گھبرائی ہوئی ہو؟"

"کچھ نہیں سرکار... بس اماں کی طبیعت زیادہ ناساز ہے..." وہ دیوار سے لگ گئی۔

چوہدری چیتے کی سی تیزی سے اٹھا، ریحانہ کے ناتواں کندھوں کو اپنے بھاری ہاتھوں میں جکڑا اور اس کے گال پر اپنی ناپاک مہر ثبت کر دی۔ ریحانہ صدمے سے گونگی ہو گئی۔ چوہدری مزید قریب آیا، اس کی بدبودار سانسیں ریحانہ کے چہرے پر ٹکرائیں۔

"مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہو؟ میں تمہیں اچھے کھانے دیتا ہوں، کپڑے دیتا ہوں..." یہ کہتے ہی اس نے ریحانہ کے چہرے کو بے دردی سے دبوچا، اس کے معصوم ہونٹوں کو اپنے دانتوں تلے مسلا اور ایک زوردار جھٹکے سے اسے سامنے بچھے وسیع پلنگ پر پٹک دیا۔

ریحانہ کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے جسم کے ساتھ کیا ستم ڈھایا جا رہا ہے... بس درد کی ایک تیز لکیر اٹھی، اور وہ لٹ چکی تھی۔

وہ ایک زندہ لاش کی طرح، جسم پر لگی مٹی اور روح پر لگی غلاظت سمیٹے گھر پہنچی اور ماں کے گلے لگ کر زار و قطار رو دی۔ ماں نے اسے سینے سے لگا لیا، اس کی آنکھوں سے بھی برسات جاری تھی اور وہ چوہدری کو بددعائیں دے رہی تھی، لیکن چند ہی لمحوں بعد اس نے ریحانہ کے آنسو پونچھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا: "دیکھو بیٹی! یہ بات اس گھر کی دیواروں سے باہر نہ جائے، ورنہ ہم اس گاؤں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔" ریحانہ خاموش ہو گئی، وہ جانتی تھی کہ غربت کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔

ماں نے بدنامی کے ڈر سے ایک ہی ہفتے کے اندر ریحانہ کا نکاح گاؤں کے ایک نکھٹو اور جواری شخص سے کر دیا اور اسے رخصت کر دیا۔ شوہر کام چور تھا اور دن بھر نشے میں دھت رہتا۔ گھر میں روز کا جھگڑا اور فاقہ کشی مقدر بن گئی۔ اس کسمپرسی کے عالم میں گاؤں کے ایک چالاک مرد نے ریحانہ کی تنہائی اور محرومی کا فائدہ اٹھایا۔ وہ اسے محبت کے حسین باغ دکھا کر شہر بھگا لایا۔ لیکن شہر پہنچتے ہی اس درندے نے ریحانہ کی معصومیت کا سودا کیا اور اسے ایک قحبہ خانے کے ہاتھوں بیچ دیا۔ ریحانہ اس ذلت کی زندگی کے حق میں نہیں تھی، اس لیے وہ ایک رات اپنی جان پر کھیل کر وہاں سے بھاگ نکلی۔

وہ بھاگ تو گئی، مگر اس سمندر جیسے شہر میں اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ صبح سے شام تک ریلوے اسٹیشن کے ایک بنچ پر بیٹھی رہی۔ وہ واپس گاؤں نہیں جا سکتی تھی کیونکہ وہاں بدنامی کی کھائی تھی اور یہاں گمنامی کا خوف۔ چہرے پر پھیلی اسی بے بسی کو بھانپ کر ایک بظاہر رحمدل، بوڑھی عورت اس کے پاس آئی۔ اس نے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا: "بیٹی! تم جوان اور خوبصورت ہو، یہ دنیا بہت ظالم ہے۔ یہاں اکیلی لڑکی کو دیکھ کر بھیڑیے نوچ لیتے ہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گی۔"

ریحانہ نے اسے فرشتہ سمجھ کر اپنی بپتا سنا دی۔ بوڑھی عورت نے دلاسا دیا اور اسے رہائش اور نوکری کا جھانسا دے کر اپنے ساتھ لے گئی۔ لیکن اس کے گھر پہنچتے ہی ریحانہ پر انکشاف ہوا کہ وہ ایک بار پھر اسی دلدل کی ایک اور نائکہ کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ اب وہاں سے فرار ناممکن تھا کیونکہ باہر چاک و چوبند غنڈوں کا پہرا تھا اور ویسے بھی، اب ریحانہ کے پاس جانے کے لیے کوئی تیسرا راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ اس نے تقدیر کے اس فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر لیا۔

ماضی کے ان جھرنکوں سے باہر آتے ہی ریحانہ نے اپنے سر کو جھٹکا۔ "نہیں، نسرین مجھ سے نفرت نہیں کر سکتی۔ میں نے تو اسے اپنے ماضی کا سچ خود بتایا تھا، اور اس نے رو کر کہا تھا کہ باجی! اگر آپ مجھ بے سہارا کو یہاں لائی ہیں تو میری ناموس کی حفاظت بھی کرنا۔" اور ریحانہ نے سچ مچ اس کی حفاظت کی تھی۔ نسرین خود کہتی تھی کہ جو سلوک ریحانہ نے اس کے ساتھ کیا، وہ سگے رشتے دار بھی نہیں کرتے۔ پھر اب یہ بے رخی کیوں؟ کیا یہ محض ریحانہ کا وہم تھا؟

ریحانہ کو اڑھائی سال پہلے کا وہ دن یاد آیا جب نسرین اسے ملی تھی۔ مارچ کی ایک نکھری ہوئی، خنک صبح تھی جب فضا میں گلابوں کی مہک بسی ہوئی تھی۔ ریحانہ پارک میں ٹہل رہی تھی کہ اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے کسی لڑکی کے سسکنے اور دامن چھڑانے کی آواز آئی۔ تین اوباش لڑکے ایک خوبصورت لڑکی پر دست درازی کر رہے تھے اور وہ بے بس ہو کر ہوا میں ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ ریحانہ نے ہمت کی، شور مچایا اور ان لڑکوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

لڑکی کے چہرے پر لکھی خوف کی تحریر بتا رہی تھی کہ وہ گھر سے بھاگی ہوئی ہے۔ ریحانہ خود دلدل میں تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ معصوم بھی اسی راستے پر چلے۔ اس نے لڑکی کے ماضی کو نہیں کھرچا، اور اس کے اس جھوٹ کو بھی سچ مان لیا کہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ اس نے نسرین کو اپنے گھر پناہ دے دی۔ دونوں اکیلی عورتوں نے ایک دوسرے کے دکھ بانٹ کر زندگی کا سفر شروع کیا، لیکن اب اچانک یہ خاموشی کا زہر کہاں سے آ گیا تھا؟

ریحانہ اس ذہنی تناؤ کو مزید برداشت نہ کر سکی۔ اس نے طے کر لیا کہ آج وہ نسرین کا روگ معلوم کر کے رہے گی۔ وہ تیز قدموں سے نسرین کے کمرے کی طرف بڑھی اور دروازہ دھکیل دیا۔ نسرین بیٹی کو گود میں لیے دودھ پلا رہی تھی۔

"نسرین..." ریحانہ کی آواز گونجی۔

نسرین نے چونک کر دیکھا۔ اس کی آنکھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں۔ ریحانہ کو سامنے دیکھ کر اس کا ضبط ٹوٹ گیا، وہ دیوانہ وار لپکی اور ریحانہ کے سینے میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

ریحانہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، اسے چوما اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا: "میری جان! مجھے بتاؤ تمہیں کیا دکھ ہے؟ اگر تم مجھے واقعی اپنی بہن مانتی ہو تو دل کا غبار باہر نکالو۔ کیا تم مجھ سے اس لیے دور ہو رہی ہو کہ میں ایک طوائف رہی ہوں؟"

نسرین نے تڑپ کر ریحانہ کے ہونٹوں پر اپنا کانپتا ہوا ہاتھ رکھ دیا: "نہیں باجی! خدا کے لیے ایسا نہ کہیں۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔"

کتنے دنوں بعد نسرین کے منہ سے 'باجی' کا لفظ سن کر ریحانہ کے دل کو قرار آ گیا، اس کی اپنی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ "تو پھر بولو نسرین! کیا بات ہے؟ کیوں خود کو اور مجھے اس عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ بتاؤ، ورنہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔"

نسرین نے چادر کا پلو انگلیوں میں مروڑتے ہوئے کہا: "باجی... میں شرمندہ ہوں... خود سے، آپ سے اور اپنی مری ہوئی ماں سے۔ اور مجھے میری اس شرمندگی کا آئینہ دکھانے والی یہ معصوم بچی ہے۔"

ریحانہ نے بے تابی سے اس کے آنسو پونچھے: "میں کچھ نہیں سمجھ پا رہی، نسرین! کھل کر بات کرو۔"

نسرین نے نظریں جھکا لیں: "باجی، میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا کہ میرا کوئی نہیں ہے۔ میری ماں زندہ تھی... وہ لوگوں کے گھروں میں برتن مانج کر، راتوں کو سلائی کر کے مجھے پڑھا رہی تھی تاکہ میں ڈاکٹر بنوں۔ لیکن مجھے 'محمود' کی امیرانہ گاڑی اور بنگلے کے خواب نظر آ گئے۔ وہ میرا کلاس فیلو تھا، ہم نے اسکول کی سطح پر محبت کا الاؤ جلایا، اسکول سے میرا نام کٹا تو ماں نے مجھے گھر میں بند کر دیا۔ جب ماں نے میری شادی ایک غریب خاندان میں طے کر دی، تو میں نے اپنے خوابوں کی خاطر ماں کی عزت کو پامال کیا اور محمود کے ساتھ کورٹ میرج کر لی۔"

نسرین کی ہچکی بندھ گئی: "لیکن باجی... وہ بزدل نکلا۔ شادی کے محض ایک ہفتے بعد اس کے باپ نے اسے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی، اور اس نے مجھے طلاق کا کاغذ تھما دیا۔ میری ماں اسی دن مر گئی تھی جس دن میں نے گھر کی دہلیز لانگھی تھی۔ وہ طعنے برداشت نہ کر سکی۔"

نسرین نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا: "جب اس معصوم نے چند دن پہلے مجھے پہلی بار 'ماں' پکارا، تو میری روح کانپ اٹھی۔ اس کا 'ماں' کہنا مجھے ایک طعنہ لگا۔ یہ لفظ مجھ سے سوال کرتا ہے کہ تم نے اپنی ماں کی عزت مٹی میں ملائی، اور خود ایک ایسی ماں بنیں جس کے بچے کے پاس باپ کا نام تک نہیں۔ میں اپنے ضمیر کے سامنے مجرم ہوں، باجی!"

ریحانہ نے کچھ نہ کہا۔ اس کے پورے جسم پر جیسے برفیلے سپوٹس رینگ گئے ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر نسرین کی معصوم بیٹی کو گود میں لیا، اسے سینے سے لگایا اور اس کے ماتھے پر پیار کیا۔ کمرے میں دونوں عورتوں کی سسکیاں اور بچے کی معصوم سانسیں ایک دوسرے میں ضم ہو رہی تھیں۔

------------------------------------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

·         تازیانہ: کوڑا، سزا۔

·         اوسان خطا ہونا: حواس باختہ ہونا، عقل گم ہونا۔

·         مزارع: مٹی میں کام کرنے والا کسان، ہاری۔

·         کمسنی: چھوٹی عمر۔

·         منجمد: جم جانا، ساکت ہونا۔

·         کسمپرسی: بے یاری و مددگاری کی حالت۔

·         خنک: ہلکی سردی والی، ٹھنڈی۔

ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: